تحریکِ انصاف کو دیر سے سمجھ آنے والا سبق: سوشل میڈیا کا بیانیہ، سیاسی نقصان اور سچ کی آواز
تحریر: عاصم خلیل درخواستی
ادارہ: VONG.pk | Voice Of New Generation
چار سال سے اٹھائے جانے والے سوالات آج پھر موضوعِ بحث ہیں
سیاست میں اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن جب تنقید کو دشمنی اور سوالات کو سازش قرار دیا جانے لگے تو سیاسی فیصلوں پر نظرثانی کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ تحریکِ انصاف اور اس کے سوشل میڈیا بیانیے کے حوالے سے آج جو بحث سامنے آ رہی ہے، وہ اسی رویے پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ جن سوالات اور خدشات کی نشاندہی ہم گزشتہ چار سال سے کرتے آ رہے تھے، آج انہی پر تحریکِ انصاف کے بعض حلقوں میں بھی گفتگو ہونے لگی ہے۔ بیرونِ ملک بیٹھے بعض یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا شخصیات کے کردار، ان کے دعووں اور ان کے سیاسی اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا سوشل میڈیا کا ہر مقبول بیانیہ کسی سیاسی جماعت کے حق میں بھی ہوتا ہے یا بعض اوقات وہ اسی جماعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے؟
ہماری تنقید کو دشمنی کیوں سمجھا گیا؟
ہم نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ ہمارا اختلاف کسی سیاسی جماعت یا اس کے کارکنوں سے نہیں، بلکہ غیر مصدقہ اطلاعات، بے بنیاد الزامات اور ایسے دعووں سے ہے جنہیں شواہد کے بغیر حقیقت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
اس کے باوجود جب ہم نے بعض سوشل میڈیا شخصیات کے بیانیے پر سوال اٹھائے تو ہماری تنقید کو تحریکِ انصاف اور عمران خان کی مخالفت قرار دیا گیا۔ ہمیں بلاک کیا گیا اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے سیاسی دشمنی کے تناظر میں دیکھا گیا۔
حالانکہ کسی سیاسی رہنما سے ہمدردی رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے نام پر پیش کیے جانے والے ہر دعوے کو درست تسلیم کر لیا جائے۔ حقیقی خیرخواہی کا تقاضا تو یہ ہے کہ کسی جماعت کو غلط معلومات، ناقص مشوروں اور غیر ذمہ دارانہ سیاسی مہمات کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ کیا جائے۔
مقبول یوٹیوبرز اور خود ساختہ سیاسی تجزیہ کاروں کا احتساب
پاکستان میں سوشل میڈیا نے سیاسی گفتگو کو غیر معمولی وسعت دی ہے۔ یوٹیوب، فیس بک، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے عام شہری بھی اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہ آزادی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ معلومات کی درستگی اور ذمہ داری کا سوال بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
عمران ریاض خان، اوریا مقبول جان اور دیگر معروف سیاسی و صحافتی شخصیات کے بیانات بھی اسی اصول کے تحت پرکھے جانے چاہییں۔ کسی شخصیت کی مقبولیت، سیاسی وابستگی یا بڑی تعداد میں فالوورز ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کا ہر دعویٰ درست ہوگا۔
اگر کسی بیان میں کوئی الزام عائد کیا جائے، کسی اہم واقعے کی پیش گوئی کی جائے یا کسی سیاسی شخصیت کے بارے میں دعویٰ کیا جائے تو اس کی بنیاد، دستیاب شواہد اور بعد کے حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ جہاں کوئی دعویٰ غلط ثابت ہو، وہاں اس کی اصلاح اور وضاحت بھی ہونی چاہیے۔
صحافت کا معیار کسی کی مقبولیت نہیں بلکہ تحقیق، شواہد، دیانت داری اور جواب دہی ہے۔
کیا سیاسی جذبات ڈیجیٹل کاروبار کا ذریعہ بن چکے ہیں؟
اس بحث کا ایک اہم پہلو سوشل میڈیا کا معاشی ماڈل بھی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ویوز، واچ ٹائم، اشتہارات اور سامعین کی توجہ آمدنی کے ذرائع بن سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں سنسنی خیز عنوانات، شدید سیاسی الزامات اور جذباتی مواد زیادہ توجہ حاصل کرنے کی ترغیب پیدا کر سکتے ہیں۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی مواد عوام کو باخبر بنانے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے یا عوامی غصے اور سیاسی تقسیم سے زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
اگر کوئی سوشل میڈیا شخصیت بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے سیاسی معاملات پر گفتگو کرتی ہے تو یہ بذاتِ خود کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانیوں کو بھی اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے۔ تاہم اگر کسی مواد میں غیر مصدقہ دعوے پھیلائے جائیں، نفرت انگیز زبان کو فروغ دیا جائے یا لوگوں کو مسلسل تصادم کی طرف دھکیلا جائے تو اس طرزِ عمل پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔
اسی طرح کسی شخص پر مالی مفادات، بدنیتی یا کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کرنے کا الزام لگانے کے لیے بھی قابلِ تصدیق شواہد درکار ہوتے ہیں۔ تنقید کا مقصد احتساب ہونا چاہیے، محض جوابی الزام تراشی نہیں۔
تحریکِ انصاف کے لیے اصل چیلنج کیا ہے؟
کسی بھی سیاسی جماعت کی مضبوطی صرف اس کے سوشل میڈیا ٹرینڈز، مقبول ویڈیوز یا جذباتی نعروں سے نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مؤثر قیادت، قابلِ اعتماد مشاورت، واضح سیاسی حکمتِ عملی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں درکار ہوتی ہیں۔
اگر کسی جماعت کے کارکنوں تک پہنچنے والی معلومات کا بڑا حصہ ایسے ذرائع سے آتا ہو جہاں دعووں کی تصدیق کا مناسب نظام موجود نہ ہو تو اس جماعت کے لیے درست فیصلے کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی قیادت اور کارکنوں کو اپنے ذرائعِ معلومات کا تنقیدی جائزہ لینا چاہیے۔
عمران خان کے حامی ہوں یا کسی دوسری جماعت کے کارکن، سب کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ رہنماؤں کے بارے میں بھی سوال کرنے کا حوصلہ رکھیں۔ کسی سیاسی شخصیت کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے گرد موجود ہر فرد، ہر تجزیہ کار یا ہر یوٹیوبر کو بلا تحقیق درست تسلیم کر لیا جائے۔
تحریکِ انصاف کے لیے بھی یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی سیاسی حکمتِ عملی، مشاورت کے نظام اور سوشل میڈیا سے وابستہ حلقوں کے کردار کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔ کسی بھی جماعت کے لیے اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ اصلاح کی جانب پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیاسی شعور کی علامت ہے
ہماری شکایت ہمیشہ یہ رہی کہ سوال اٹھانے والوں کو دلیل سے جواب دینے کے بجائے مخالف قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی سیاسی بیانیے میں تضاد کی نشاندہی کرے تو اسے دشمن سمجھنے کے بجائے اس کے دلائل کا جائزہ لینا چاہیے۔
بلاک کرنا کسی اکاؤنٹ کو خاموش کر سکتا ہے، لیکن کسی دلیل کو غلط ثابت نہیں کرتا۔ اسی طرح کسی دعوے کو بار بار دہرانے سے وہ حقیقت نہیں بن جاتا۔ حقیقت جاننے کے لیے شواہد، تحقیق اور آزادانہ سوچ ضروری ہیں۔
یہ اصول صرف تحریکِ انصاف کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت، ہر صحافی، ہر یوٹیوبر اور ہر سوشل میڈیا صارف کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
نوجوانوں کے نام پیغام: بیانیے کے نہیں، حقائق کے پیروکار بنیں
وائس آف نیو جنریشن، یعنی VONG، کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں شعور، ذمہ دارانہ مکالمے اور قومی معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ آج کے نوجوان کے ہاتھ میں معلومات تک رسائی کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، لیکن معلومات کی فراوانی کے ساتھ غلط معلومات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کا اصل ماخذ دیکھا جائے، مختلف معتبر ذرائع سے تصدیق کی جائے اور الزام کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔
پاکستان کو ایسی ڈیجیٹل نسل کی ضرورت ہے جو اختلاف کر سکے، سوال اٹھا سکے، دلیل سن سکے اور اپنی رائے کو نئے شواہد کی روشنی میں بہتر بنا سکے۔ نفرت، گالم گلوچ اور غیر مصدقہ دعووں کے بجائے تحقیق، برداشت اور ذمہ داری کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔
نتیجہ: سچائی کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں
گزشتہ برسوں کے سیاسی تجربات سے ایک اہم سبق سامنے آتا ہے کہ جب سیاسی وابستگی حقائق پر غالب آ جائے تو نقصان صرف کسی ایک جماعت کا نہیں ہوتا، بلکہ عوامی مکالمہ بھی متاثر ہوتا ہے۔
ہماری تنقید کا مقصد کسی سیاسی جماعت کے کارکنوں کی تضحیک یا کسی شخصیت کے خلاف نفرت پھیلانا نہیں، بلکہ یہ سوال اٹھانا ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور عوام کے درمیان معلومات پہنچانے والے افراد کس حد تک اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔
اگر آج تحریکِ انصاف کے بعض حلقے بھی سوشل میڈیا کے بعض کرداروں اور ان کے بیانیے پر سوال اٹھا رہے ہیں تو اس بحث کو محض الزام تراشی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے شواہد، شفافیت اور سیاسی احتساب کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔
یاد رکھیے، سیاسی وفاداری اپنی جگہ، لیکن سچائی، دلیل اور قومی مفاد کو کسی بھی شخصیت یا جماعت سے بالاتر ہونا چاہیے۔ جو معاشرہ سوال کرنے والوں کو دشمن سمجھنے لگے، وہاں غلطیوں کی اصلاح مشکل ہو جاتی ہے۔ اور جو معاشرہ حقائق کو ترجیح دے، وہاں اختلاف بھی شعور اور بہتری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
عاصم خلیل درخواستی
تحریر برائے VONG.pk | Voice Of New Generation