بہت سارے لوگ سی سی ڈی کے “طریقہ انصاف” کی حمایت کرتے ہیں ( بسا اوقات کسی واقعے پر جذباتی ہو کے میں بھی) مگر پھر یوں بھی ہوتا ہے جو نیچے لکھا ہے 👇اسی لئے سب سے اہم یہی ہے کہ آپ عدل و انصاف کے نظام کو مضبوط کریں۔ افراد، افراد کو سزائیں نہ دیں بلکہ ریاست دے، نظام دے جس کے پیچھے آئین اور قانون کی طاقت ہو۔
یہاں سب سے اہم مثال پاکستان کی فوج کی ہے۔ اس پر نو مئی کو حملہ ہوا۔ فوج کے پاس مرنے مارنے کو تیار سپاہی بھی بہت اور اسلحہ بھی بہت مگر اس نے قانون اور عدالت کا راستہ اختیار کیا۔ کیا فوج خود حملہ آوروں کو نہیں بھُون سکتی تھی یا ان کے چاچے بابے تک جا کر نہیں مار سکتی تھی؟ مگر عدالت کا لمبا مگر محفوظ اور آئینی راستہ اختیار کیا گیا۔
یہ بھی بتاتا چلوں کہ عالمی سطح پر عدلیہ اور قانونی نظام کی درجہ بندی کا سب سے معتبر اور جامع سسٹم ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کا ‘رول آف لاء انڈیکس’ ہے۔ اس کے علاوہ عالمی اقتصادی فورم (WEF) کا ‘گلوبل کمیٹیٹونس انڈیکس’ بھی عدلیہ کی خود مختاری کو ناپتا ہے۔ ڈان کے مطابق ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق کل 142 ممالک کےمجموعی رول آف لاء انڈیکس: پاکستان 129 ویں نمبر پر، دیوانی انصاف (Civil Justice) پاکستان 128 ویں نمبر پر، فوجداری انصاف (Criminal Justice): پاکستان 98 ویں نمبر پر، حکومتی اختیارات پر پابندیاں (Constraints on Govt Powers): پاکستان 103 ویں نمبر پر ہے۔ ہمیں اس ریٹنگ کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
انفراسٹرکچر کی اہمیت اپنی جگہ مگر دو شعبوں پر توجہ اور خرچ ناگزیر ہے۔ پہلا تعلیم اور دوسرا انصاف کا شعبہ۔ ماتحت عدالتوں میں جو گھمسان کا رن ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ عوام کا عدالتوں پر اعتماد نہیں ہے اور اس کو بحال کرنے کی ضرورت ہے اور یہ صرف حکومت نہیں بلکہ اس سے کہیں پہلے ہر سطح پر عدالتی سربراہوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نظام کو بہتر بنائیں، فول پروف اور کرپشن فری۔
عاصم خلیل درخواستی
