🔥 جنرل فیصل نصیر اور عمران خان: مفاہمت سے تصادم تک، پردے کے پیچھے کی وہ کہانی جو کبھی پوری طرح لکھی ہی نہیں گئی

🚨 پی ٹی آئی کا جنرل فیصل نصیر سے اصل مسئلہ کیا تھا؟ ایک ایسی کہانی جس کے کئی اہم باب شاید کبھی پوری طرح سامنے نہیں آئے

پاکستانی سیاست میں بعض تنازعات صرف دو شخصیات کے درمیان اختلاف نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے طاقت کے مراکز، سیاسی مفادات، باہمی رابطے، غلط فہمیاں، اندرونی صف بندیاں اور بدلتے ہوئے حالات کی ایک طویل داستان ہوتی ہے۔

عمران خان اور جنرل فیصل نصیر کے درمیان کشیدگی کو بھی صرف ایک ’’ذاتی تنازع‘‘ کے طور پر دیکھنا شاید اس پوری کہانی کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔

اس کہانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں 2022 کے سیاسی بحران کی طرف واپس جانا ہوگا۔

پس منظر میں جنرل فیض حمید کا دور

عمران خان کی حکومت کے دوران جنرل فیض حمید کا کردار پاکستانی سیاست میں ایک انتہائی اہم موضوع رہا۔ ڈی جی آئی ایس آئی اور اس سے پہلے ڈی جی سی کی حیثیت سے ان کا کردار، عمران خان کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات اور اس دور کی سیاسی صف بندیوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں عمران خان اور عسکری قیادت کے تعلقات کو عام سیاسی تعلقات سے مختلف انداز میں دیکھا جانے لگا۔

عمران خان نے ایک ایسے عسکری ماحول کا تجربہ کیا تھا جس میں ان کے مطابق بعض فوجی شخصیات ان کے سیاسی معاملات میں قابلِ اعتماد interlocutors تھیں۔

پھر حکومت تبدیل ہوئی۔

سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوا۔

اور نئے فوجی کردار سامنے آئے۔

جولائی 2022 میں جنرل فیصل نصیر میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پاتے ہیں اور اسی عرصے میں ڈی جی سی کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔

یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کی حکومت ختم ہو چکی تھی، تحریک انصاف سڑکوں پر تھی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید محاذ آرائی جاری تھی اور آنے والے سیاسی و عسکری فیصلوں پر پورا ملک نظریں جمائے بیٹھا تھا۔

پھر ایک حیران کن back-channel سامنے آتا ہے

اگست 2022 میں شہباز گل کی گرفتاری کے بعد بنی گالہ میں ہونے والی ملاقاتوں اور رابطوں کے حوالے سے خرم حمید روکھڑی نے بعد میں جو تفصیلات بیان کیں، وہ اس پوری کہانی کا ایک اہم پہلو ہیں۔

روکھڑی کے مطابق عمران خان کے قریبی حلقے کی جانب سے ان سے کہا گیا:

’’روکھڑی، تم فیصل کو جانتے ہو۔‘‘

یہ جملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ بعد میں یہی جنرل فیصل نصیر تحریک انصاف کے انتہائی سخت سیاسی بیانیے کے مرکزی کردار بن گئے۔

روکھڑی کے مطابق سلمان احمد نے انہیں بتایا کہ عمران خان کو خدشہ تھا کہ جنرل فیصل نصیر ڈی جی سی بن کر تحریک انصاف کے خلاف کارروائی کریں گے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ خدشات کے باوجود رابطے کا راستہ اختیار کیا گیا۔

روکھڑی کے مطابق عمران خان کی خواہش تھی کہ جنرل فیصل نصیر سے رابطہ کیا جائے۔

رابطہ ہوا۔

پھر ملاقات ہوئی۔

اور پھر معاملہ صرف ایک رابطے تک محدود نہیں رہا۔

باہر جلسوں میں سخت زبان، اندر مذاکرات کی کوشش

یہاں پاکستانی سیاست کا ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔

ایک طرف تحریک انصاف کے جلسوں میں فوجی قیادت کے خلاف سخت بیانات اور شدید تنقید جاری تھی۔

دوسری طرف، روکھڑی کے بیان کے مطابق، پسِ پردہ فوجی قیادت سے رابطہ قائم کرنے اور معاملات بہتر بنانے کی کوشش بھی ہو رہی تھی۔

یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ممکنہ مفاہمت کا ایک راستہ موجود تھا۔

مبینہ طور پر یہ سوچا گیا کہ عمران خان کی فوجی قیادت سے براہِ راست ملاقات ہونی چاہیے اور اس کے لیے غیرجانبدار مقام بھی زیرِ غور آیا۔

روکھڑی کے مطابق عمران خان کی طرف سے کچھ شرائط سامنے آئیں جبکہ دوسری طرف سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ سیاسی سرگرمی اور سیاسی مہم پر اعتراض نہیں، لیکن فوج اور شہداء کے خلاف مہم، گالم گلوچ اور تضحیک آمیز زبان قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔

یعنی ایک طرف شدید سیاسی confrontation تھی، لیکن دوسری طرف dialogue کی گنجائش بھی تلاش کی جا رہی تھی۔

پھر جنرل فیض حمید کا کردار

روکھڑی کے مطابق جنرل فیض حمید نے عمران خان کو اس ملاقات سے روک دیا۔

اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اپنی جگہ ایک الگ معاملہ ہے، لیکن اگر روکھڑی کے بیان کو سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت عسکری قیادت کے اندر بھی مستقبل کے حوالے سے مختلف مفادات اور ترجیحات موجود تھیں؟

جنرل فیض حمید اس وقت آرمی چیف کے ممکنہ امیدواروں میں شمار کیے جاتے تھے۔

دوسری طرف عمران خان کے ساتھ ان کی قربت بھی سیاسی بحث کا حصہ تھی۔

لہٰذا اس پورے معاملے میں صرف عمران خان اور جنرل فیصل نصیر کو دیکھنا کافی نہیں۔ اس وقت کی وسیع تر عسکری صف بندیوں اور آنے والی قیادت کی تبدیلی کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔

مفاہمت کا راستہ بند ہوتا گیا

روکھڑی کے مطابق عمران خان نے انہیں دوبارہ بلایا، لیکن ملاقات نہ ہو سکی۔

پھر تیسری مرتبہ بلایا گیا تو روکھڑی نے جانے سے انکار کیا اور کہا کہ اگر عمران خان واقعی ملاقات کے لیے سنجیدہ ہیں تو خود انہیں فون کریں۔

ملاقات نہ ہو سکی۔

اور اس کے بعد سیاسی فاصلے مزید بڑھتے گئے۔

عمران خان نے لانگ مارچ کا راستہ اختیار کیا۔

ملک میں سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھتا گیا۔

اور پھر آیا 3 نومبر 2022۔

وزیرآباد حملہ

وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔

حملے کے بعد سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔

عمران خان نے جنرل فیصل نصیر پر حملے میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔

فوج نے ان الزامات کو مسترد کیا۔

یہ وہ مقام تھا جہاں جنرل فیصل نصیر کا نام ایک انتظامی یا انٹیلی جنس عہدے کے حامل افسر سے بڑھ کر تحریک انصاف کے سیاسی بیانیے کا مرکزی کردار بن گیا۔

لیکن یہاں ایک سوال پھر سامنے آتا ہے:

اگر چند ہفتے پہلے عمران خان کی ہدایت پر جنرل فیصل نصیر سے رابطہ کروایا جا رہا تھا، تو پھر چند ہفتوں بعد وہی شخصیت سیاسی بیانیے میں اتنی بڑی دشمن کیسے بن گئی؟

یہی تضاد اس پوری کہانی کو اہم بناتا ہے۔

حملے کے بعد بھی رابطے؟

روکھڑی کے مطابق وزیرآباد حملے کے بعد بھی سلمان احمد نے انہیں فون کیا اور ملاقات کروانے کی بات کی۔

روکھڑی نے مبینہ طور پر سوال اٹھایا کہ اگر ایک طرف انہی کے خلاف مقدمہ درج کروانے، ان پر الزامات لگانے اور campaign چلانے کی بات ہو رہی ہے تو دوسری طرف ملاقات کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟

یہ سوال دراصل اس وقت کے سیاسی ماحول کے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک طرف public confrontation۔

دوسری طرف private communication۔

ایک طرف سخت الزامات۔

دوسری طرف back-channel رابطے۔

Capital Talk اور روکھڑی کا انکشاف

اسی دوران سلمان احمد حامد میر کے پروگرام Capital Talk میں آئے اور ایک ویڈیو سامنے آئی جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید تحریک انصاف اور فوج کے درمیان پسِ پردہ رابطے موجود ہیں۔

بعد ازاں خرم حمید روکھڑی خود Capital Talk میں آئے۔

اور انہوں نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس نے پوری کہانی کو مزید دلچسپ بنا دیا۔

روکھڑی کے مطابق وہ عمران خان کی ہدایت پر جنرل فیصل نصیر سے تین مرتبہ ملاقات کر چکے تھے اور آخری ملاقات میں سلمان احمد بھی موجود تھے۔

ان کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد عمران خان اور فوج کے درمیان معاملات کو بہتر بنانا تھا۔

اگر اس بیان کو درست مانا جائے تو اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا اس وقت تحریک انصاف اور فوج کے درمیان مکمل طور پر رابطہ منقطع تھا، یا عوامی سطح پر سخت محاذ آرائی کے باوجود اندرونی سطح پر مذاکرات کا ایک راستہ موجود تھا؟

یہ فرق سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

پھر روکھڑی خود پارٹی سے باہر

اس کہانی کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ روکھڑی کے مطابق جن رابطوں کا مقصد معاملات بہتر کرنا تھا، ان کے سامنے آنے کے بعد انہیں تحریک انصاف کی جانب سے کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی بنیادی رکنیت ختم کر دی گئی۔

روکھڑی کا مؤقف تھا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد مفاہمت تھا، لیکن ایک طرف ملاقاتیں ہوتی رہیں اور دوسری طرف متنازع سیاسی بیانات بھی سامنے آتے رہے۔

وزیرآباد حملے کے بعد جب دوبارہ ملاقات کی بات ہوئی تو انہوں نے خود کو اس عمل سے الگ کر لیا۔

اصل مسئلہ جنرل فیصل نصیر تھے یا بدلتا ہوا سیاسی ماحول؟

اب پوری کہانی کو ایک ساتھ رکھیں۔

ایک طرف جنرل فیض حمید کا دور تھا۔

دوسری طرف جنرل فیصل نصیر کا نیا کردار تھا۔

درمیان میں عمران خان تھے۔

باہر سیاسی جنگ تھی۔

اندر back-channel رابطے تھے۔

باہر سخت بیانات تھے۔

اندر ملاقاتیں تھیں۔

باہر الزامات تھے۔

اندر مذاکرات کی کوششیں تھیں۔

اور اسی دوران آرمی چیف کی تقرری کا سب سے اہم مرحلہ قریب آ رہا تھا۔

یہ سب واقعات ایک ایسے وقت میں ہو رہے تھے جب پاکستانی سیاست اور عسکری قیادت کے درمیان تعلقات اپنی انتہائی حساس سطح پر پہنچ چکے تھے۔

پھر دسمبر 2022 آیا

نومبر 2022 میں جنرل عاصم منیر آرمی چیف مقرر ہوئے۔

یہ تقرری پاکستانی سیاسی تاریخ کے ایک انتہائی اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔

جنرل فیض حمید کا دور ختم ہوا۔

نئی عسکری قیادت سامنے آئی۔

اور عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان وہ تعلق بھی تبدیل ہوتا گیا جو ان کی حکومت کے دوران ایک مختلف نوعیت کا تھا۔

اس کے بعد سیاسی confrontation مزید بڑھا۔

اور جو اختلاف پہلے back-channel مذاکرات سے حل ہونے کی امید رکھتا تھا، وہ بالآخر ایک کھلے سیاسی تصادم میں تبدیل ہو گیا۔

تو پھر اصل سوال کیا ہے؟

اصل سوال یہ نہیں کہ:

جنرل فیصل نصیر اور عمران خان کے درمیان اختلاف کب شروع ہوا؟

اصل سوال یہ ہے:

وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے ایک ممکنہ مفاہمت کو مکمل تصادم میں تبدیل کر دیا؟

کیا مسئلہ صرف ایک شخصیت تھی؟

یا مسئلہ اس پورے نظام کا تھا جس میں سیاسی قیادت، عسکری قیادت، انٹیلی جنس ادارے، اندرونی صف بندیاں اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے مسلسل ٹکراتے رہے؟

کیا جنرل فیض حمید کے دور کے تجربات نے عمران خان کی نئے عسکری کرداروں کو دیکھنے کی سوچ پر اثر ڈالا؟

کیا 2022 میں آرمی چیف کی تقرری کی دوڑ نے اس سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ کیا؟

کیا عمران خان کی public strategy اور private negotiations ایک دوسرے سے متصادم تھیں؟

اور سب سے بڑھ کر:

کیا وہ مفاہمت، جو 2022 کے وسط میں کسی حد تک ممکن دکھائی دیتی تھی، سیاسی بیانات، باہمی عدم اعتماد اور بدلتی ہوئی طاقت کی صف بندیوں کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی؟

یہ سوالات آج بھی اہم ہیں۔

کیونکہ پاکستانی سیاست میں تاریخ صرف وہ نہیں ہوتی جو جلسوں کے اسٹیج پر سنائی جاتی ہے۔

تاریخ کا ایک حصہ ان بند کمروں میں بھی بنتا ہے جہاں ملاقاتیں ہوتی ہیں، پیغامات پہنچتے ہیں، شرائط زیرِ بحث آتی ہیں اور پھر کبھی کوئی ملاقات نہیں ہو پاتی۔

جنرل فیصل نصیر کی کہانی شاید اسی تضاد کی کہانی ہے۔

ایک وقت میں رابطے کی کوشش۔

پھر مذاکرات کی امید۔

پھر عدم اعتماد۔

پھر وزیرآباد کا سانحہ۔

پھر الزامات۔

پھر شدید سیاسی confrontation۔

اور آخرکار ایک ایسا تعلق جس میں بات چیت کی جگہ تصادم نے لے لی۔

اس لیے اس پوری داستان کو سمجھنے کے لیے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ:

’’کس نے کس کے خلاف کیا؟‘‘

اصل سوال یہ ہے:

’’وہ حالات کس نے پیدا کیے جن میں بات چیت کا دروازہ کھلا بھی رہا، مگر مفاہمت کبھی منزل تک نہ پہنچ سکی؟‘‘

شاید پاکستانی سیاست کی اس پوری داستان کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ جب سیاسی مفادات، طاقت کے مراکز اور باہمی عدم اعتماد ایک دوسرے میں الجھ جائیں تو جو تنازع ابتدا میں مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے، وہ وقت کے ساتھ ایک ایسی لڑائی بن جاتا ہے جس میں ہر فریق دوسرے کو مسئلے کی اصل وجہ سمجھنے لگتا ہے۔

اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب جو لوگ کل ایک دوسرے سے بات چیت کے لیے رابطہ کر رہے تھے، وہی ایک دوسرے کے سب سے بڑے سیاسی مخالف بن جاتے ہیں۔

یہی 2022 کی اس پیچیدہ سیاسی داستان کا سب سے بڑا سوال ہے۔

اور شاید اس کا مکمل جواب ابھی تک پاکستانی سیاست کے ان صفحات میں موجود ہے جو پوری طرح لکھے ہی نہیں گئے۔

عاصم خلیل درخواستی

Asim Khalil

Asim Khalil

Blogger & Writer

Asim Khalil is a contributor at VONG, covering youth issues, media literacy, and Pakistan-focused analysis. He writes to challenge misinformation, promote responsible debate, and highlight practical solutions for young Pakistanis.

Our Mission

To empower Pakistani youth through factual, independent journalism, media literacy, and solution-based debate that strengthens national awareness and responsibility.

Join the family!

Sign up for a Newsletter.

You have been successfully Subscribed! Ops! Something went wrong, please try again.
Edit Template

In VONG ( Voice Of New Generaton ) Youth-led journalism promoting truth, media literacy, and stronger Pakistan.

Contact

Copyright © 2025 VONG. Develop by IDEADEV