کریں گے؟
اس سیاق و سباق میں واضح ہے کہ بات پاکستان کی سفارتی تنہائی کی نہیں ، بات پاکستان کی باوقار فارن پالیسی کی ہے۔ پاکستان نے مشکل وقت میں مشکل فیصلہ کر لیا لیکن یہ بتا دیا کہ ہم قرض پر صرف 6 فی صد سود دیا کرتے ہیں ، فیصلہ سازی کا 6 فیصد نہیں دیا کرتے۔
اب آئیے اس سوال کی جانب کہ کیا پاکستان اس رقم سے محروم ہو کر دیوالیہ ہو جائے گا۔ ہر گز نہیں ۔ اول تو قومی خزانے میں ڈالرز کی جو کم سے کم شرح درکار ہے ، وہ یو اے ای کے ساڑھے تین ارب نکال کر بھی پوری ہے۔ مشکل تو ظاہر ہے ہو گی لیکن مشکلات ہوتی کس لیے ہیں ۔ نبٹنے کے لیے۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس مشکل وقت میں بھی بھکاری کی طرح ہر ماہ رول اوور مانگنے سے نجات حاصل کر لی ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ملک ہے جو اپنی مالیاتی کمٹ منٹ مشکل سے مشکل وقت میں بھی پوری کرتا ہے۔
تیسری اہم بات یہ ہے کہ جو قرض پاکستان عشروں سے لیے بیٹھا تھا ، وہ اس نے ایک ہی ماہ میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا۔
پاکستان درست سمت میں جا رہا ہے۔ پھر یہ کہ یو اے ای سے ہم کون سا روٹھ گئے ۔ مسلم دنیا سے ہم پہلے کب روٹھے ۔ ہم تو سب کے لے خیر ہیں ۔ تو کیا عجب ، جو رقم آج قرض تھی اور سود دینا پڑتا تھا ، یو اے ای وہی رقم یا اس کا کچھ حصہ کل پاکستان میں سرمایہ کاری میں لگا دے۔
ریاست کو باوقار ہونا چاہیے ، امکانات آتے رہتے ہیں ۔ پاکستان نے باوقار فیصلہ ہے۔ ویل ڈن پاکستان
