طاہر اشرفی کبھی بھی میری پسند نہیں رہے، بلکہ میں ان سے اختلاف رکھتا ہوں۔ لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ سراسر قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر یہ رویہ کسی مہذب معاشرے کی پہچان نہیں۔
آج ایک ایسا ہجوم سامنے آ رہا ہے جو دلیل سے خالی اور رویوں میں شدت لیے ہوئے ہے۔ جو بھی سامنے آئے، اسے نشانہ بنانا جیسے معمول بنتا جا رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اس انتہا پسندی کو بعض لوگ شعور کا نام دینے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ یہ محض انتشار اور عدم برداشت ہے۔ اسحاق ڈار، فائز عیسیٰ، نواز شریف، احسن اقبال اور کئی دیگر افراد اس رویے کا شکار ہو چکے ہیں۔
زیادہ وقت نہیں لگے گا جب یہ طرزِ عمل مکمل طور پر بے نقاب ہوگا۔ معاشرہ خاموش نہیں رہتا، وہ ردعمل دیتا ہے، اور اب دینا شروع کر چکا ہے۔ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ کہاں حد پار ہو رہی ہے۔ حالیہ واقعات پر عوامی ردعمل اس بدلتی سوچ کی واضح علامت ہے۔
جو لوگ اگر مگر کے ذریعے ان حرکات کو جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی اسی رویے کو تقویت دیتے ہیں۔ چاہے وہ اینکر ہوں، کالم نگار ہوں یا کوئی اور، ذمہ داری سب پر یکساں عائد ہوتی ہے۔
یہ محض چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سوچ کا مسئلہ ہے، جس میں بدزبانی اور بدتہذیبی کو باقاعدہ حکمتِ عملی بنا دیا گیا ہے۔ ایسے رویے کو واضح اور مضبوط انداز میں مسترد کرنا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ کسی بھی صورت میں بدتمیزی اور بدزبانی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
-June 21, 2026
