ایران کے ساتھ ہماری خیرخواہی سب کے سامنے ہے، امن کی امید بھی قائم ہے، ہم اس کے لیے کوشش بھی کر رہے ہیں اور دعاگو بھی ہیں۔
لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ اعتدال اور توازن ہی ہماری اصل طاقت ہے۔ ہم اکثر جذبات میں آ کر خود کو ملامت کرتے ہیں اور دوسروں کی حد سے زیادہ تعریف کرنے لگتے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسی غلطیاں ہوئیں جن کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ غلو سے بچا جائے، جذبات کے بجائے سمجھداری سے فیصلے کیے جائیں۔ خیرخواہی اور دوستی اپنی جگہ، مگر غیر ضروری حد تک بڑھ جانا درست نہیں۔
دوست ممالک کے لیے جو ممکن ہو ہم ضرور کریں گے، لیکن ہماری محبت، ترجیح اور وفاداری کا مرکز ہمیشہ پاکستان ہی رہے گا۔
-June 21, 2026
