گزشتہ دنوں میں امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے ملنے پہنچے اور ایرانی سفیر اپنے پورے وفد کے ساتھ مولانا کی دہلیز پر حاضر تھے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے، قومی سیاست تو ایک طرف، اب بین الاقوامی سیاست کے بڑے کھلاڑی بھی مولانا کے گرد گھوم رہے ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ نہ داخلی سیاست کا آنگن مولانا کے بغیر روشن ہوتا ہے اور نہ ہی عالمی کردار انہیں نظر انداز کر پاتے ہیں۔ اگر ہم اعداد و شمار کی عینک سے دیکھیں تو مولانا کی سیاست کا حجم بظاہر محدود نظر آتا ہے۔ 2024 کے الیکشن میں ان کا ووٹ بینک تحریکِ لبیک سے بھی کم رہا، پنجاب اور سندھ اسمبلی میں بھی کوئی خاص نشست نہیں ملی، مگر اس کے باوجود پوری قومی سیاست ان کے بغیر ادھوری ہے۔ وہ جس پلڑے میں وزن ڈال دیں، وہی بھاری ٹھہرتا ہے۔ وہ کسی نکتے پر بگڑ جائیں تو پوری حکومت ان کے دربار میں حاضر ہو جاتی ہے۔ وہ احتجاج کی کال دیں تو ایوان لرزنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف اگر ہم جماعتِ اسلامی کا جائزہ لیں تو صورتحال بالکل مختلف ہے۔ جماعت کے پاس بہترین تنظیمی ڈھانچہ ہے، ”الخدمت فائونڈیشن“ جیسا عظیم الشان فلاحی ادارہ ہے اور ان کے کارکنان بھی جدید علوم سے آراستہ ہیں۔ لیکن سیاسی میدان میں جماعتِ اسلامی کی حیثیت محض ایک ”خاموش تماشائی“ جیسی بن کر رہ گئی ہے۔ قومی بیانیے کی تشکیل ہو یا سیاسی جوڑ توڑ، ان کا وجود کہیں نظر نہیں آتا۔ آخر جے یو آئی پاکستان کے پاس ایسا کیا ہے جو جماعتِ اسلامی کے پاس نہیں؟ اس کا جواب صرف ایک ہے ”مولانا فضل الرحمٰن صاحب “ مولانا ایک مکمل سیاست دان ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاست جذباتیت کا نہیں بلکہ (ممکنات) اور (حقیقت پسندی) کا نام ہے۔ جہاں جماعتِ اسلامی اکثر اپنی مثالیت پسندی میں الجھ کر رہ جاتی ہے، وہاں مولانا صاحب کا استدلال اور ان کے مطالبات ہمیشہ حقیقت پسندانہ ہوتے ہیں۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ دوسری جماعتیں کرپشن یا امریکی غلامی کی وجہ سے آگے ہیں، لیکن مولانا پر تو یہ طعنہ بھی نہیں چلتا۔ غزہ ہو، فلسطین ہو یا شرعی احکام کا معاملہ، مولانا کا موقف ہمیشہ جماعتِ اسلامی سے زیادہ توانا اور مدلل ہوتا ہے۔ فرق صرف سیاسی بصیرت کا ہے۔ اسی لیے میرا یہ مشورہ ہے کہ جماعتِ اسلامی کو چاہیے کہ وہ اپنے تربیتی نصاب میں ”مولانا فضل الرحمٰن“ کو بطور ایک مستقل مضمون شامل کرے اور اپنی مرکزی قیادت کو پابند کرے کہ وہ دن میں کم از کم دو بار اس کا مطالعہ کریں، تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ سیاست کے تقاضے کیا ہوتے ہیں اور سیاسی بصیرت کسے کہتے ہیں۔ مولانا صاحب نے ثابت کیا ہے کہ سیاست صرف ووٹوں کی گنتی کا نام نہیں، بلکہ یہ اثر و رسوخ اور بصیرت کا فن ہے۔
-June 21, 2026
